اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ترک صدارتی دفتر کے شعبہ اطلاعات نے بدھ کی صبح ایک بیان میں اسرائیل کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف کیے جانے والے غیر قانونی اسرائیلی فضائی حملوں کو جواز فراہم کرنا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات ان کی خطے میں توسیع پسندانہ اور عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں کو جاری رکھنے کی کوشش کا حصہ ہیں، بالخصوص مقبوضہ فلسطین میں عام انتخابات سے قبل۔
ترکی نے کہا کہ وہ عالمی برادری کی اکثریت کی طرح خطے میں پائیدار امن کے قیام کا حامی ہے اور اس مقصد کے حصول کا واحد راستہ نیتن یاہو کی جارحانہ اور طاقت کے استعمال پر مبنی پالیسیوں کو ترک کرنا اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا ہے۔
ترک صدارتی دفتر نے مزید کہا کہ انقرہ شام میں امن، استحکام اور خوشحالی کے قیام کے لیے جائز بنیادوں پر دمشق کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا اور شام کو عدم استحکام کا شکار ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
اس سے قبل اسرائیلی جنگی طیاروں نے منگل کے روز ادلب میں واقع ابوالظہور فوجی ہوائی اڈے پر بمباری کی تھی۔ یہ ہوائی اڈہ ترک سرحد سے تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کے دفتر نے منگل کی شب دعویٰ کیا تھا کہ شام، ترک فوجیوں کو ادلب کے ایک فضائی اڈے پر تعینات کرنے کی اجازت دینے کا ارادہ رکھتا تھا۔
آپ کا تبصرہ